بلوچستان میں حالیہ قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ یہ واقعہ سنجیدی ڈیگاری کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک جوڑے—بانو بی بی اور احسان اللہ—کو مبینہ طور پر پسند کی شادی کرنے پر قتل کر دیا گیا۔
🔍 واقعے کی تفصیلات:
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مسلح افراد ایک خاتون اور مرد پر اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
- ویڈیو کے مطابق، جوڑے کو ایک گاڑی سے اتار کر پہاڑی علاقے میں لے جایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔
- واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل پیش آیا، لیکن ویڈیو حال ہی میں منظر عام پر آئی۔
⚖️ قانونی کارروائی:
- وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیا اور کہا کہ ریاست مظلوم کے ساتھ ہے۔
- دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
- اب تک 20 سے زائد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں قبائلی سردار شیر باز خان بھی شامل ہیں۔
- جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقتولہ کی قبر کشائی کا حکم بھی دے دیا ہے تاکہ شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
🧠 سماجی پہلو:
- انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے کو غیرت کے نام پر قتل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سماجی تشدد کی ایک شکل ہے۔
- ماہرین کا کہنا ہے کہ فرسودہ قبائلی روایات انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، اور متاثرہ خاندان اکثر قانونی کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کب تک روایات کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلتے رہیں گے۔
وزیراعلی بلوچستان کے مطابق
قتل ہونے والی خاتون اور مرد کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا، وزیراعلی بلوچستان
سوشل میڈیا پر کہا جاتا رہا کہ نوبیاہتا جوڑا تھا لیکن ایسا نہیں تھا، وزیراعلی بلوچستان
خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی، قتل ہونے والے مرد کے بھی چار، پانچ بچے ہیں، وزیراعلی بلوچستان
ان دونوں کا بے دردی سے قتل کیا گیا جو کہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے، وزیراعلی بلوچستان
اس بات کی معاشرہ اجازت دیتا ہے نہ حکومت اجازت دیتی ہے، وزیراعلی بلوچستان
